صحیح مسلم حدیث ۶۸۱ - حائضہ بیوی سے قربت کا ادب
حیض میں مباشرت کا نبوی ادب
صحیح مسلم : ۶۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ " .
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عورتوں سے مباشرت کرتے تھے ازار کے اوپر اور وہ حائضہ ہوتیں۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۱ کا خلاصہ
یہ حدیث حائضہ عورت کا حکم سمجھنے میں بہت آسان بات بتاتی ہے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے قربت فرماتے، مگر ازار کے اوپر، جب وہ حیض کی حالت میں ہوتیں۔ اس سے اصل پیغام یہ ملتا ہے کہ حیض کے دنوں میں بیوی کو الگ تھلگ کر دینا درست انداز نہیں، بلکہ گھر کے تعلقات میں نرمی، محبت اور احتیاط باقی رہتی ہے۔ حدیث میں خاص طور پر ازار کا ذکر آیا ہے، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جائے گی کہ قربت کپڑے کے اوپر تھی۔ اس میں حائضہ بیوی سے حسن سلوک، حیض میں پاکیزگی، اور ازدواجی ادب تینوں باتیں صاف سمجھ آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کے دنوں میں بیوی سے محبت اور نرمی کا تعلق ختم نہیں ہوتا۔
- حدیث میں ازار کے اوپر قربت کا ذکر ہے، اس لیے احتیاط کا پہلو واضح ہے۔
- حائضہ عورت کو گھر میں بے تعلق یا ناپسندیدہ سمجھنا درست انداز نہیں۔
- ازدواجی معاملات میں پاکیزگی اور ادب دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
