صحیح مسلم حدیث ۶۹۳ - حیض میں قرآن سننا
حائضہ کی گود میں قرآن پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تکیہ لگاتے اور قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۳ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گود میں تکیہ لگاتے اور قرآن پڑھتے، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔ یہ حدیث حائضہ عورت کے بارے میں نرمی اور پاکیزہ قربت کو بہت صاف دکھاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گود میں آرام کیا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حائضہ عورت کو اس طرح ناپاک نہیں سمجھا گیا کہ اس کے قریب قرآن پڑھنا ہی چھوڑ دیا جائے۔ البتہ حدیث میں حائضہ عورت کے قرآن پڑھنے یا چھونے کا مسئلہ بیان نہیں ہوا، اس لیے اس روایت سے وہ الگ حکم نہیں نکالا جائے گا۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ زوجہ کے ساتھ محبت اور اطمینان کا تعلق رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کے قریب قرآن پڑھنے کا عمل روایت میں آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ ہونے کو دوری کا سبب نہیں بنایا۔
- حدیث میں حائضہ عورت کے خود قرآن پڑھنے کا مسئلہ بیان نہیں ہوا۔
- حیض کے دنوں میں عزت اور نرمی کا تعلق باقی رہتا ہے۔
