صحیح مسلم حدیث ۶۹۸ - حاجت کے بعد صفائی
رات کو حاجت کے بعد ہاتھ اور منہ دھونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ نَامَ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے تو حاجت سے فارغ ہوئے پھر منہ اور ہاتھ دھوئے پھر سو رہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۸ کا خلاصہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، حاجت سے فارغ ہوئے، پھر منہ اور ہاتھ دھوئے، پھر سو رہے۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر روزمرہ صفائی کا ایک صاف طریقہ دکھاتی ہے۔ رات میں حاجت کے بعد ہاتھ اور منہ دھونا جسمانی صفائی اور سلیقے کی علامت ہے۔ اس روایت میں مکمل وضو کا ذکر نہیں آیا، بلکہ خاص طور پر منہ اور ہاتھ دھونے کا ذکر ہے۔ اس لیے وضاحت بھی اسی طرح ہونی چاہیے۔ یہ حدیث حاجت کے بعد صفائی، رات کو اٹھنے کے آداب، اور سونے سے پہلے پاکیزگی جیسے موضوعات سے جڑی ہے۔ اس میں کوئی لمبا حکم نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عملی انداز بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاجت کے بعد ہاتھ اور منہ دھونے کا عمل روایت میں آیا ہے۔
- رات کے وقت بھی صفائی کا خیال رکھا گیا۔
- حدیث میں مکمل وضو کا ذکر نہیں، صرف منہ اور ہاتھ دھونے کا ذکر ہے۔
- چھوٹے کام بھی نبوی طریقے سے کیے جائیں تو سلیقہ آتا ہے۔
