صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۱ - کھجور کے درخت کی خوبصورت مثال
مسلمان کی مثال کھجور کے درخت جیسی کیوں ہے؟
صحیح مسلم : ۷۱۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۰۱
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے کھجور کے گودے (جمار) کا ذکر ہوا اور اسی موقع پر ایک مثال بھی بیان کی گئی جو مردِ مسلمان سے متعلق تھی۔ اس میں مسلمان کی مثال ایسے درخت سے دی گئی ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ ہمیشہ فائدہ دیتا رہتا ہے۔ کھجور کا درخت اپنی مضبوطی، فائدہ مندی اور مسلسل پھل دینے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسی طرح ایک سچا مسلمان بھی اپنے ایمان، اخلاق اور عمل کے ذریعے دوسروں کو فائدہ دیتا رہتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ مسلمان کی پہچان اس کی مستقل نیکی اور فائدہ پہنچانے والی زندگی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کی پہچان اس کا فائدہ مند کردار ہے
- ایمان والا شخص مستقل نیکی کی طرف مائل رہتا ہے
- اچھی مثالیں سمجھانے کے لیے استعمال کرنا سنت ہے
