صحیح مسلم حدیث ۷۲۴ - غسل کے بعد تولیہ نہ لینا
غسل کے بعد تولیہ استعمال نہ کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۷۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۲۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ ، فَلَمْ يَمَسَّهُ ، وَجَعَلَ يَقُولُ : بِالْمَاءِ هَكَذَا ، يَعْنِي يَنْفُضُهُ " .
میمونہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تولیہ لایا گیا مگر آپ نے اسے نہ چھوا اور ہاتھوں سے پانی جھاڑتے رہے
صحیح مسلم حدیث ۷۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ غسل کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس تولیہ لایا گیا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم ہاتھوں سے پانی جھاڑتے رہے۔ یہ روایت ایک سادہ عمل بتاتی ہے: غسل کے بعد تولیہ لینا ضروری نہیں تھا، کیونکہ اس موقع پر آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے نہ لیا۔ البتہ حدیث صرف اسی واقعے کو بیان کرتی ہے، اس لیے اس سے زیادہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ غسل جنابت، غسل کے بعد پانی جھاڑنا، اور تولیہ نہ لینا اس روایت کے اصل نکات ہیں۔ یہ ہمیں سادگی اور عمل کو ٹھیک طرح سمجھنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں غسل کے بعد تولیہ نہ لینے کا ذکر ہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے ہاتھوں سے پانی جھاڑا، یہ عمل روایت میں آیا ہے۔
- حدیث سے صرف اسی واقعے کی بات ثابت ہوتی ہے، اس سے زیادہ بات نہ بڑھائی جائے۔
