صحیح مسلم حدیث ۷۳۲ - پانی بانٹ کر غسل
ایک برتن سے غسل اور پانی کے استعمال کا خوبصورت بیان
صحیح مسلم : ۷۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۲
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ ، بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَاحِدٍ ، فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ : دَعْ لِي ، دَعْ لِي ، قَالَتْ : وَهُمَا جُنُبَانِ " .
عائشہ روایت:
میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے ایک برتن سے جو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ میں ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی پانی لیتے یہاں تک کہ میں کہتی: تھوڑا پانی میرے لئے چھوڑ دیں اور دونوں جنبی ہوتے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۳۲ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا ایک سادہ واقعہ بیان کرتی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے، جو دونوں کے درمیان رکھا ہوتا۔ آپ صلى الله عليه وسلم جلدی جلدی پانی لیتے، یہاں تک کہ میں کہتی: میرے لیے بھی چھوڑ دیں۔ روایت میں آخر میں صاف بتایا گیا کہ دونوں جنبی ہوتے تھے۔ اس حدیث میں غسل جنابت، ایک برتن، اور پانی کے مشترک استعمال کی بات ہے۔ اس سے گھر کے اندر سادگی، بے تکلفی اور پانی کے استعمال کا انداز معلوم ہوتا ہے، مگر حدیث سے آگے بڑھ کر کوئی غیر متعلقہ حکم بیان نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک برتن دونوں کے درمیان رکھا جاتا تھا۔
- پانی لینے میں جلدی کا واقعہ روایت میں آیا ہے۔
- حدیث میں دونوں کے جنبی ہونے کی وضاحت موجود ہے۔
