صحیح مسلم حدیث ۷۸۹ - عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضو والی روایت

آگ سے پکے کھانے کے بعد وضو: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۸۹

(حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .

سعید بن خالد روایت:

ابن شہاب نے سعید بن خالد سے سنا اور وہ ان سے یہ حدیث بیان کر رہے تھے۔ سعید نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا وضو کے متعلق آگ سے پکے ہوئے کھانے سے۔ انہوں نے کہا: میں نے سیده عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو اس کھانے سے جو آگ سے پکا ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سعید بن خالد نے عروہ بن زبیر سے آگ سے پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا۔ عروہ نے جواب دیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کھانے سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو۔ اس روایت میں سوال، جواب اور حدیث کی نسبت تینوں چیزیں واضح ہیں۔ موضوع وضو اور آگ سے پکا کھانا ہے۔ اس حدیث میں کوئی اضافی واقعہ بیان نہیں ہوا، اس لیے تشریح بھی اسی بات تک رہنی چاہیے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ صحابہ اور تابعین دینی مسئلہ پوچھتے، پھر اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی علم رکھنے والی شخصیت سے نقل کرتے تھے۔ اس سے علم کی امانت اور وضو کے حکم کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی مسئلہ پوچھنے کا طریقہ صحابہ اور تابعین کے ہاں موجود تھا۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وضو کے مسئلے کی روایت نقل ہوئی۔
  • حدیث میں آگ سے پکے کھانے کے بعد وضو کا حکم آیا ہے۔
  • علم کو سن کر آگے امانت کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں