صحیح مسلم حدیث ۷۹۹ - دودھ والی حدیث کی دوسری سند
دودھ کے بعد کلی والی روایت کی تائید
صحیح مسلم : ۷۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۹۹
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ كُلُّهُمْ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِإِسْنَادِ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، مِثْلَهُ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۹۹ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سندوں سے بیان کرتی ہے۔ متن میں کہا گیا کہ اسی سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔ اس کا تعلق اسی واقعے سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی منگوایا، کلی کی، اور فرمایا کہ دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع دودھ کے بعد کلی اور منہ کی صفائی ہے۔ چونکہ متن میں نئی تفصیل نہیں، اس لیے اس کی تشریح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ یہ روایت ہمیں حدیث کے نقل ہونے کے طریقے کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ایک ہی عمل مختلف سندوں سے محفوظ ہوا۔ دودھ کے بعد کلی کرنا ایک سادہ، روزمرہ اور آسان عمل ہے، مگر حدیث میں اس کی وجہ بھی بتائی گئی کہ دودھ منہ کو چکنا کر دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت دودھ کے بعد کلی والی حدیث کی تائید کرتی ہے۔
- ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے محفوظ ہو سکتا ہے۔
- دودھ کی چکنائی کی وجہ سے کلی کا عمل بیان ہوا ہے۔
- کھانے پینے کے بعد منہ کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
