صحیح مسلم حدیث ۸۲ - جھوٹے راوی کی صاف نشاندہی
جھوٹا راوی اور حدیث کی حفاظت: عبدالقدوس کے بارے میں ابن مبارک کا حکم
صحیح مسلم : ۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يُفْصِحُ بِقَوْلِهِ كَذَّابٌ ، إِلَّا لِعَبْدِ الْقُدُّوسِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ : كَذَّابٌ ،
عبدالرزاق روایت:
عبداللہ بن مبارک کو میں نے نہیں سنا کسی کو صاف جھوٹا کہتے ہوئے مگر عبدالقدوس کے وہ کہتے تھے: جھوٹا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۲ کا خلاصہ
اس روایت کا بنیادی موضوع جھوٹا راوی اور حدیث کی حفاظت ہے۔ عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن مبارک کو عام طور پر کسی کے لیے صاف لفظ جھوٹا کہتے نہیں سنا، مگر عبدالقدوس کے بارے میں انہوں نے یہ بات صاف کہی۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ محدثین بلا وجہ سخت الفاظ استعمال نہیں کرتے تھے۔ جب وہ کسی راوی کے بارے میں ایسا حکم دیتے تھے تو اس کے پیچھے روایت کی حفاظت کا مقصد ہوتا تھا۔ اس روایت میں جرح و تعدیل، راوی کی ثقاہت، کذاب راوی اور حدیث کی سند جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ ہر منسوب بات کو حدیث سمجھ کر قبول نہ کیا جائے، بلکہ اہل علم کی تحقیق کو دیکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹے راوی سے حدیث لینا دین کے علم میں خطرہ پیدا کرتا ہے۔
- محدثین سخت حکم تب لگاتے تھے جب روایت کی حفاظت کا تقاضا ہو۔
- کسی راوی پر حکم لگانا ذاتی دشمنی نہیں، حدیث کی جانچ کا حصہ ہو سکتا ہے۔
- حدیث قبول کرنے میں راوی کی سچائی بنیادی شرط ہے۔
