صحیح مسلم حدیث ۸۴۵ - نابینا مؤذن ابن ام مکتوم
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا اذان دینا
صحیح مسلم : ۸۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۴۵
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى " ،
عائشہ روایت:
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا اذان دیا کرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے اذان دیا کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اذان کی خدمت کے بارے میں اچھی بات بتاتی ہے۔ مؤذن کا کام لوگوں کو نماز کی طرف بلانا ہے، اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ یہ خدمت انجام دیتے تھے۔ حدیث میں ان کے نابینا ہونے کا ذکر آیا ہے، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داری ان کے لیے رکاوٹ نہ بنی۔ اس روایت میں نہ کوئی لمبی تفصیل ہے اور نہ کوئی الگ حکم، بلکہ ایک واقعہ نما خبر ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان کہتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے اذان دیتے تھے۔
- نابینا ہونا ان کے مؤذن ہونے میں رکاوٹ نہیں بنا۔
- اذان دینا نماز کی خدمت کا ایک واضح کام ہے۔
