صحیح مسلم حدیث ۸۶۳ - نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھانا
نماز شروع کرتے وقت کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۶۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُكِلَاهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ ، رَفَعَ يَدَيْهِ ، حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ كَبَّرَ .
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھے تک اٹھاتے پھر تکبیر کہتے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے۔ یہاں نماز کے آغاز کا عمل خاص طور پر سامنے آتا ہے۔ اس روایت میں رکوع یا سجدے کی تفصیل نہیں، بلکہ اصل توجہ نماز شروع کرنے کے انداز پر ہے۔ ایک نمازی کے لیے یہ بات آسان زبان میں یوں سمجھ آتی ہے کہ نماز صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ اس کا ایک عملی طریقہ بھی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہوا۔ رفع الیدین، تکبیر تحریمہ اور کندھوں تک ہاتھ اٹھانا اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ اس لیے اس حدیث کو نماز کے آغاز کے ادب اور طریقے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے آغاز میں دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھانے کا بیان ہے۔
- ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہنے کا ذکر آیا ہے۔
- اس روایت میں نماز شروع کرنے کے عمل پر خاص توجہ ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نماز کے چھوٹے چھوٹے اعمال بھی محفوظ کیے۔
