صحیح مسلم حدیث ۸۷ - شہرت کے بعد راوی کی حقیقت سامنے آنا
راوی کی حقیقت: صرف سنی سنائی تعریف کافی نہیں
صحیح مسلم : ۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق الطَّالَقَانِيّ َ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَقُولُ : لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَرَّرٍ ، لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ ، ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ كَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ ،
عبداللہ بن مبارک روایت:
اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں جاؤں یا عبداللہ بن محرر سے ملوں تو میں پہلے اس سے ملتا پھر جنت میں جاتا (ایسی اس کی تعریف سنتا تھا اور اس قدر اس سے ملنے کا اشتیاق تھا) پھر جب میں اس سے ملا۔ تو ایک اونٹ کی مینگنی مجھے اس سے بہتر معلوم ہوئی۔
صحیح مسلم حدیث ۸۷ کا خلاصہ
اس روایت کا موضوع راوی کی حقیقت اور عملی تحقیق ہے۔ عبداللہ بن مبارک نے عبداللہ بن محرر کے بارے میں پہلے بہت تعریفیں سن رکھی تھیں، یہاں تک کہ وہ کہتے تھے اگر جنت میں جانے اور اس سے ملنے میں اختیار دیا جائے تو پہلے اس سے ملتا، پھر جنت میں جاتا۔ لیکن جب وہ اس سے ملے تو ان کی رائے بالکل بدل گئی، حتیٰ کہ انہوں نے سخت انداز میں اپنی ناگواری بیان کی۔ اس روایت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ راوی کی شہرت یا سنی سنائی تعریف کافی نہیں ہوتی۔ حدیث کی تحقیق، راوی کی جانچ، جرح و تعدیل اور غیر معتبر راوی جیسے الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔ محدثین رائے بدلنے میں بھی حق کو مقدم رکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی راوی کے بارے میں صرف مشہور بات کافی نہیں، تحقیق بھی ضروری ہے۔
- عملی ملاقات یا جانچ کے بعد رائے بدل سکتی ہے۔
- محدثین پسند یا شہرت کے بجائے روایت کی حقیقت کو دیکھتے تھے۔
- حدیث کے معاملے میں جذبات سے زیادہ احتیاط اہم ہے۔
