صحیح مسلم حدیث ۹۲۹ - ابوبکرؓ کا تکبیر سنانا
ابوبکرؓ کا تکبیر سنانا اور جماعت کی ترتیب
صحیح مسلم : ۹۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۲۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ ، لِيُسْمِعَنَا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
سیدنا جابر روایت:
نماز پڑھائی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے ہمیں سنانے کے لئے پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۹۲۹ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہے۔ اس میں بیان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے، تاکہ لوگوں تک آواز پہنچ جائے۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون بیان کیا گیا۔ اس حدیث سے جماعت کی نماز میں نظم کا ایک عملی انداز سامنے آتا ہے۔ اصل امام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، مگر لوگوں کو تکبیر سنانے کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آواز بلند کی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نماز میں مقتدیوں کی آسانی کا خیال رکھا جا سکتا ہے، مگر امام کی پیروی ہی اصل رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت میں لوگوں تک تکبیر پہنچانے کا اہتمام کیا گیا۔
- ابوبکرؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی تکبیر لوگوں کو سنائی۔
- اصل نماز امام کی پیروی کے ساتھ ادا ہوئی۔
- یہ روایت جماعت کے نظم اور سہولت دونوں کو دکھاتی ہے۔
