صحیح مسلم حدیث ۹۳۷ - عائشہؓ کے گھر تیمارداری
تیمارداری کے لیے اجازت اور کمزوری میں مسجد جانا
صحیح مسلم : ۹۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۳۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لابن رافع ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ : " أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا ، وَأَذِنَّ لَهُ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ ، وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَنَ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ هُوَ عَلِيٌّ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیمار ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ازواج مطہرات سے مجھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی خواہش کی۔ چنانچہ سب نے اجازت دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں رہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کروں۔ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جانے کے لئے اس طرح روانہ ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھے ہوئے تھے اور ایک ہاتھ ایک دوسرے شخص کے کندھے پر تھا اور ضعف کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر خطوط کھینچ رہے تھے۔عبیداللہ کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سنائی تو انہوں نے کہا: تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی جس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا کون تھا؟ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۳۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری پہلے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے اجازت چاہی کہ بیماری کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہیں۔ سب نے اجازت دے دی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد جانے کے لیے نکلے تو ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے کندھے پر تھا اور دوسرا ہاتھ ایک اور شخص کے کندھے پر۔ کمزوری اتنی تھی کہ پاؤں زمین پر خطوط کھینچ رہے تھے۔ روایت کے آخر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ دوسرا شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق اجازت، تیمارداری اور بیماری میں بھی نماز سے تعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ازواج مطہرات سے اجازت طلب کی۔
- بیماری میں تیمارداری کے لیے عائشہؓ کے گھر رہنے کا ذکر آیا۔
- کمزوری کے باوجود مسجد جانے کا واقعہ بیان ہوا۔
- فضل بن عباسؓ اور علیؓ کے سہارے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
