صحیح مسلم حدیث ۹۴۵ - پیر کے دن آخری دیدار
پیر کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کا آخری دیدار
صحیح مسلم : ۹۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۴۵
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَحَدِيثُ صَالِحٍ ، أَتَمُّ ، وَأَشْبَعُ ،
انس روایت:
آخری مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اس وقت دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوموار کو پردہ اٹھایا۔ یہ بات اسی قصہ کے ساتھ بیان کی مگر مذکورہ حدیث زیادہ مکمل ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۴۵ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیان کا مختصر طریق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو آخری بار انہوں نے اس وقت دیکھا جب آپ صلى الله عليه وسلم نے سوموار کے دن پردہ اٹھایا۔ متن میں صاف بتایا گیا ہے کہ یہ اسی واقعے کے ساتھ بیان ہوا ہے، مگر پچھلی روایت زیادہ مکمل ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری دیدار اور نماز کے ماحول سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں تفصیل کم ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد میں رکھی گئی ہے۔ ہمیں اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے اس آخری منظر کو بہت یاد رکھا۔ نماز، پردہ اٹھانا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا دیدار اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری دیدار کو بیان کیا۔
- یہ واقعہ پیر کے دن پردہ اٹھانے سے متعلق ہے۔
- مختصر روایت بھی اسی اصل واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
- متن میں جس قدر بات آئی ہے، اسی پر بات محدود رکھنی چاہیے۔
