سنن نسائی حدیث ۱۰۴۸ - رکوع و سجدہ کی دعا
رکوع و سجدے میں مغفرت کی دعا
سنن نسائی : ۱۰۴۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۴۸
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قالت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» ”اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے“ کثرت سے پڑھتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۴۸ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: «سبحانك ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي»۔ اس کا مطلب ہے: اے ہمارے رب! تو پاک ہے، ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔ یہ حدیث رکوع و سجدہ کی دعا کے بارے میں نہایت خوبصورت تعلیم دیتی ہے۔ اس میں تسبیح بھی ہے، حمد بھی ہے، اور مغفرت کی درخواست بھی۔ نماز کے اندر بندہ صرف الفاظ نہیں دہراتا، بلکہ اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی اور محتاجی ظاہر کرتا ہے۔ اس روایت میں لفظ کثرت سے آیا ہے، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بار بار پڑھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع و سجدے میں اللہ کی پاکی اور حمد بیان کرنا مسنون ہے۔
- نماز میں مغفرت کی دعا کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- دعا میں بندہ اپنی عاجزی اور رب کی بڑائی دونوں مانتا ہے۔
- حدیث میں جس دعا کا ذکر ہے اسے اسی لفظی معنی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
