سنن نسائی حدیث ۱۰۹۵ - بندے کے سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں
سجدہ میں بندے کے سات اعضاء کون سے ہیں؟
سنن نسائی : ۱۰۹۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۹۵
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مِنْهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ " .
عباس بن عبدالمطلب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۹۵ کا خلاصہ
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں؛ اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر۔ اس حدیث میں سجدہ کے سات اعضاء کو واضح الفاظ میں نام لے کر بیان کیا گیا ہے۔ چہرہ ایک حصہ ہے، دونوں ہاتھ دو، دونوں گھٹنے دو، اور دونوں پاؤں دو؛ اس طرح کل سات اعضاء بنتے ہیں۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ سجدہ صرف سر جھکانے کا نام نہیں، بلکہ جسم کے خاص اعضاء بھی اس عبادت میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ حدیث سات اعضاء پر سجدہ، سجدہ کے اعضاء، اور صحیح سجدہ کا طریقہ جیسے عنوانات سے تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ میں چہرے کا ذکر کیا گیا ہے۔
- دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں بھی سجدہ کرتے ہیں۔
- حدیث سات اعضاء کو صاف طور پر گناتی ہے۔
- سجدہ میں جسم کے کئی اعضاء شامل ہوتے ہیں، صرف سر نہیں۔
