سنن نسائی حدیث ۱۱۸۵ - نماز میں ہاتھوں کی بےجا حرکت
نماز میں سکون اختیار کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۱۸۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۱۸۵
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ , فَقَالَ : " مَا بَالُهُمْ رَافِعِينَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ , اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ " .
جابر بن سمرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۱۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نماز میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں ہاتھ اٹھا رہے ہیں، گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ نماز میں سکون سے رہا کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں سکون اور غیر ضروری حرکت سے بچنا ہے۔ یہاں رفع یدین والا عمل مراد نہیں، بلکہ سلام کے وقت ہاتھوں کو ہلانا مراد ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں بات مزید صاف آتی ہے۔ اس لیے نماز میں سکون، ہاتھوں کی حرکت، اور سلام کا صحیح طریقہ سمجھنے کے لیے یہ حدیث بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں غیر ضروری ہاتھ ہلانے سے بچنا چاہیے۔
- سلام کے وقت ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرنا اس حدیث میں منع کیا گیا ہے۔
- نماز میں سکون اختیار کرنے کی واضح ہدایت دی گئی ہے۔
- حدیث کو اس کے موقع اور الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
