سنن نسائی حدیث ۱۲۲۲ - نماز میں گفتگو کی ممانعت
نماز میں گفتگو نہ کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۲۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۲۲
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا السَّلَامَ , حَتَّى قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ , وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا يُتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم سر زمین حبشہ سے واپس آئے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو مجھے نزدیک و دور کی فکر لاحق ہوئی ۱؎ لہٰذا میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ختم کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اب اس نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ (اب) نماز میں گفتگو نہ کی جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران سلام کرتے تو آپ جواب دیتے تھے۔ پھر جب وہ حبشہ سے واپس آئے اور سلام کیا تو آپ نے نماز میں جواب نہ دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے، مگر نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ سمجھا دی کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اور اب نماز میں گفتگو نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے نماز کا ادب، خاموشی اور توجہ کا سبق ملتا ہے۔ نماز میں بات نہ کرنا ایک اہم عمل ہے، کیونکہ نمازی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے دوران عام گفتگو سے بچنا چاہیے۔
- سلام کا جواب بھی نماز کے بعد دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا۔
- صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے حکم سیکھتے تھے۔
- نیا حکم آنے پر پرانی عادت چھوڑ دینا ایمان کا تقاضا ہے۔
