سنن نسائی حدیث ۱۲۵۹ - پانچ رکعت پر سجدہ سہو
پانچ رکعت پڑھنے کے بعد دو سجدہ سہو
سنن نسائی : ۱۲۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۵۹
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ عَلْقَمَةَ صَلَّى خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ , قَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ : يَا أَبَا شِبْلٍ صَلَّيْتَ خَمْسًا , فَقَالَ : أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ , ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابراہیم روایت:
علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ابراہیم بن سوید نے کہا: ابو شبل (علقمہ)! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہوا ہے اے اعور؟ (انہوں نے کہا: ہاں) تو علقمہ نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۵۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ابراہیم سے نقل ہے کہ علقمہ نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو ابراہیم بن سوید نے کہا: ابو شبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ علقمہ نے پوچھا کہ کیا ایسا ہوا ہے؟ تصدیق کے بعد انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے مگر نماز میں اضافی رکعت کے بعد سجدہ سہو کا عملی طریقہ بتاتی ہے۔ یہاں سلام کے بعد غلطی بتائی گئی، پھر دو سجدے کیے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز کے بعد بھول کا پتا چلے تو اسے چھوڑا نہیں گیا، بلکہ سجدہ سہو کے ذریعے اس کی اصلاح کی گئی۔ متن کا اصل سبق یہی ہے کہ نماز میں زیادتی ہو جائے تو سنت کے عمل کو اپنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پانچ رکعت پڑھنے کی خبر ملنے پر دو سجدہ سہو کیے گئے۔
- غلطی بتانے والے کی بات کو تصدیق کے ساتھ قبول کیا گیا۔
- علقمہ نے اس عمل کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کے مطابق بتایا۔
- نماز کے بعد معلوم ہونے والی بھول کی بھی اصلاح کی گئی۔
