سنن نسائی حدیث ۱۲۹۷ - ایک درود، دس صلاۃ
ایک درود پر اللہ کی دس صلاۃ
سنن نسائی : ۱۲۹۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۹۷
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھ پر ایک (مرتبہ) صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا اللہ اس پر دس مرتبہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ صلاۃ بھیجے گا، اللہ اس پر دس مرتبہ صلاۃ بھیجے گا۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر درود شریف کی فضیلت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں نہ لمبی تفصیل ہے، نہ کوئی شرط بیان ہوئی ہے، بلکہ اصل پیغام یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجنا اللہ کے ہاں محبوب عمل ہے۔ جو مسلمان نبی صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجتا ہے، اللہ کی طرف سے اس کے لیے دس صلاۃ کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے “درود شریف کی فضیلت” تلاش کرنے والے کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔ ہمیں اس حدیث کے الفاظ کے مطابق بات کرنی چاہیے اور اسی بشارت کو بیان کرنا چاہیے جو روایت میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم پر ایک درود بھیجنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- اللہ تعالیٰ ایک درود کے بدلے دس صلاۃ فرماتا ہے۔
- درود شریف مختصر عمل ہے مگر حدیث میں اس کی بڑی ترغیب ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت کا ایک طریقہ درود بھیجنا ہے۔
