سنن نسائی حدیث ۱۳۲۳ - دونوں طرف سلام کی سنت
دونوں طرف سلام پھیرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۳۲۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۲۳
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، عَنِ ابْنِ دَاوُدَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدِّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سلام پھیرنے کا طریقہ بیان کیا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم دائیں طرف السلام عليكم ورحمة اللہ کہتے اور بائیں طرف بھی یہی کلمات کہتے۔ راوی نے یہ بھی بتایا کہ گویا وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے گال کی سفیدی دیکھ رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سلام پھیرتے وقت رخ واضح طور پر دائیں اور بائیں کیا جاتا تھا۔ نماز میں سلام پھیرنے کا طریقہ صرف زبان کے کلمات تک محدود نہیں، بلکہ اس روایت میں سر کے رخ کا بھی ذکر ہے۔ یہ حدیث عام نمازی کے لیے بہت آسان رہنمائی دیتی ہے کہ نماز کا اختتام سلام کے ساتھ سکون اور ترتیب سے کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے آخر میں دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام کہا گیا۔
- سلام کے الفاظ السلام عليكم ورحمة اللہ اس روایت میں آئے ہیں۔
- صحابی نے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو غور سے دیکھا اور نقل کیا۔
- نماز کا طریقہ سیکھنے میں چھوٹی باتیں بھی اہم ہوتی ہیں۔
