سنن نسائی حدیث ۱۳۳۲ - رکعت رہ جائے تو سجدہ سہو
رکعت رہ جانے پر سجدہ سہو کی حدیث
سنن نسائی : ۱۳۳۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۳۲
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى ثَلَاثًا ، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ الْخِرْبَاقُ : إِنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
عمران بن حصین روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چنانچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔
سنن نسائی حدیث ۱۳۳۲ کا خلاصہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی روایت میں نماز میں بھول کا ایک واضح واقعہ بیان ہوا ہے۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے تین ہی رکعت پڑھی ہے۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے باقی رہ جانے والی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد دوبارہ سلام پھیرا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز میں کوئی رکعت رہ جائے اور بات واضح ہو جائے تو باقی رکعت پوری کی گئی، پھر سجدہ سہو کیا گیا۔ سجدہ سہو کی حدیث میں یہاں ترتیب بھی بیان ہے: رکعت پوری کرنا، سلام، سجدہ سہو، پھر سلام۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکعت رہ جانے کی صورت میں باقی رکعت پوری کی گئی۔
- غلطی بتانے والے صحابی کی بات سنی گئی۔
- نماز مکمل کرنے کے بعد سجدہ سہو کیا گیا۔
- سجدہ سہو کے بعد دوبارہ سلام پھیرنے کا ذکر ہے۔
