سنن نسائی حدیث ۱۳۷۰ - تین جمعہ چھوڑنے کی سخت وعید

تین جمعہ سستی سے چھوڑنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۳۷۰

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا , طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " .

ابوجعد ضمری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا“ ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۱۳۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو الجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ یہ روایت جمعہ چھوڑنے کی وعید کو بہت مختصر مگر سخت الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہاں عذر کے بغیر یا سستی کے سبب جمعہ کو معمولی سمجھنے سے ڈرایا گیا ہے۔ لوگ عام طور پر جمعہ چھوڑنے کی حدیث، تین جمعہ چھوڑنے کا حکم اور دل پر مہر لگنے والی حدیث تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت میں نماز جمعہ کی اہمیت اور غفلت سے بچنے کا صاف پیغام موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جمعہ کو سستی کی وجہ سے چھوڑنا سخت تنبیہ کا سبب ہے۔
  • تین جمعہ چھوڑنے پر دل پر مہر لگنے کی وعید آئی ہے۔
  • جمعہ کو معمولی سمجھنا خطرناک غفلت بن سکتا ہے۔
  • نماز جمعہ کی پابندی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں