سنن نسائی حدیث ۱۴۸۴ - سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں

سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۴۸۴

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قال : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ سَبَلَانُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَهُوَ دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَفَعَلَ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يَفْعَلُ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى الصَّلَاةِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے دو رکوع کیے، اور ان میں پہلے جیسا ہی کیا، پھر آپ نے دو سجدے کیے، ان دونوں میں اسی طرح کرتے رہے جیسے پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم انہیں (گرہن لگا) دیکھو، تو تم اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑ پڑو“۔

سنن نسائی حدیث ۱۴۸۴ کا خلاصہ

اس روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ نے لمبا قیام کیا، لمبا رکوع کیا، پھر دوبارہ قیام کیا جو پہلے سے کم تھا، پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر لمبے سجدے کیے۔ دوسری رکعت میں بھی اسی طرح نماز ادا کی گئی۔ نماز کے بعد آپ نے صاف فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ اس لیے جب تم ایسا دیکھو تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑو۔ یہ حدیث غلط عقیدوں کی اصلاح کرتی ہے اور مسلمان کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورج اور چاند کا گرہن کسی انسان کی موت یا پیدائش سے وابستہ نہیں۔
  • گرہن کے وقت نماز اور اللہ کا ذکر کیا جائے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا۔
  • ایسے واقعات میں غلط عقائد کے بجائے صحیح دینی رہنمائی اختیار کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں