سنن نسائی حدیث ۱۵۰۵ - بارش کے لیے دعا اور بارش روکنے کی دعا

بارش کے لیے دعا اور زیادتی پر نبوی دعا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۰۵

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ , فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ " .

انس بن مالک روایت:

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، (اور پانی نہ ہونے سے) راستے (سفر) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے (سیلاب کی وجہ سے) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا“ تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا (اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے)۔

سنن نسائی حدیث ۱۵۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں بارش کے لیے دعا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا کہ چوپائے ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ سے دعا کریں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دعا فرمائی تو ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک شخص آیا اور کہا کہ گھر گر گئے، راستے کٹ گئے اور جانور مر گئے۔ اس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! بارش پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، وادیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔ اسی وقت بادل مدینہ سے چھٹ گئے۔ یہ حدیث استسقاء کی دعا، بارش کی دعا اور ضرورت کے مطابق دعا کرنے کا بہترین نمونہ دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت کے وقت اللہ سے بارش کی دعا کی جا سکتی ہے۔
  • زیادہ بارش نقصان دے تو اس کے رخ بدلنے کی دعا بھی کی گئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کی مشکل سن کر دعا فرمائی۔
  • دعا میں الفاظ ضرورت کے مطابق ہو سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں