سنن نسائی حدیث ۱۵۰۹ - استسقاء میں دعا عاجزی اور تکبیر
استسقاء میں دعا، عاجزی اور تکبیر کا انداز
سنن نسائی : ۱۵۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۰۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ , وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ " .
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ روایت:
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نماز استسقاء کا انداز بیان کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں، عاجزی اور گریہ وزاری کے ساتھ نکلے۔ آپ منبر پر بیٹھے، مگر لوگوں کے معمول کے خطبہ جیسا خطبہ نہیں دیا۔ اس کے بجائے آپ مسلسل دعا، عاجزی اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے عیدین میں پڑھتے تھے۔ اس روایت سے نماز استسقاء کا ایک نہایت نرم اور عاجزانہ پہلو سامنے آتا ہے۔ یہاں زور لمبی تقریر پر نہیں، بلکہ دعا، تضرع اور تکبیر پر ہے۔ استسقاء کی نماز کا طریقہ تلاش کرنے والوں کے لیے یہ حدیث خاص طور پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استسقاء میں عاجزی اور گریہ وزاری کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم دعا اور تکبیر میں مشغول رہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے دو رکعت نماز عیدین جیسی پڑھی۔
- اس موقع پر عام خطبہ جیسی تقریر نہیں کی گئی۔
