سنن نسائی حدیث ۱۵۲۱ - استسقاء میں دو رکعت اور قبلہ رخ ہونا
استسقاء کی دو رکعت اور قبلہ رخ دعا
سنن نسائی : ۱۵۲۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۵۲۱
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .
عبداللہ بن زید روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۵۲۱ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز استسقاء کے بنیادی عمل کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے کے لیے نکلے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔ اس روایت میں چادر پلٹنے یا خطبہ کی تفصیل نہیں، اس لیے اصل بات دو رکعت نماز اور قبلہ رخ ہونے تک محدود ہے۔ نماز استسقاء کا مقصد اللہ سے بارش مانگنا ہے، اور یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل صاف بتاتا ہے کہ یہ دعا اور نماز کے ساتھ کیا گیا۔ جو لوگ استسقاء کی نماز، بارش کی نماز یا قبلہ رخ دعا کے بارے میں مختصر حدیث چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت آسان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم بارش طلب کرنے کے لیے نکلے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
- اس روایت میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا ذکر ہے۔
- حدیث مختصر مگر استسقاء کا بنیادی عمل بتاتی ہے۔
