سنن نسائی حدیث ۱۶۲۵ - رات کو منہ صاف کرنے کی سنت
رات میں اٹھ کر منہ صاف کرنے کی سنت
سنن نسائی : ۱۶۲۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۲۵
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قال : " كُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا قُمْنَا مِنَ اللَّيْلِ أَنْ نَشُوصَ أَفْوَاهَنَا بِالسِّوَاكِ " .
ابوحصین روایت:
ابووائل شقیق نے کہا: جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۲۵ کا خلاصہ
اس روایت میں ابووائل شقیق بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام مسواک اور منہ کی صفائی ہے۔ رات کی نیند کے بعد جب بندہ عبادت کے لیے اٹھتا ہے تو اسے اپنے منہ کو صاف کرنا چاہیے۔ یہ عمل نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیمات کے ماحول میں صحابہ کے درمیان معروف تھا۔ تہجد سے پہلے مسواک، قیام اللیل کی تیاری کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، مگر حدیث میں جو بات صاف ہے وہ یہی ہے کہ رات کو اٹھنے پر مسواک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کو اٹھنے کے بعد منہ صاف کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
- مسواک عبادت سے پہلے پاکیزگی کا آسان ذریعہ ہے۔
- قیام اللیل کے وقت صفائی کا خیال رکھنا سنت کے قریب عمل ہے۔
- صحابہ کو عملی انداز میں پاکیزگی کی تربیت دی جاتی تھی۔
