سنن نسائی حدیث ۱۷۰۹ - تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۱۷۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۰۹
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ " خَالَفَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ فَرَوَاهُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَائِشَةَ .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو آپ نو رکعت وتر پڑھنے لگے۔ عمارہ بن عمیر نے عمرو کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن جزار سے اور یحییٰ بن جزار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ (یعنی عمارہ بن عمیر نے اس کو مسند ام سلمہ کی بجائے مسند عائشہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے۔
