سنن نسائی حدیث ۱۷۳۵ - سبحان الملک القدوس کو کھینچ کر کہنا
وتر کے بعد سبحان الملک القدوس تین بار
سنن نسائی : ۱۷۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۳۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَفَرَغَ , قَالَ : " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا طَوَّلَ فِي الثَّالِثَةِ " , وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَرًّا .
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیر کر فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار کھینچ کر کہتے تھے۔ نیز اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے زبید سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے بھی ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار اسے کھینچ کر کہتے۔ روایت کے آخر میں یہ بھی آیا ہے کہ عبدالملک بن ابی سلیمان نے اسے زبید سے روایت کیا اور انہوں نے ذر کا ذکر نہیں کیا۔ اس حدیث میں وتر کی مسنون سورتیں اور وتر کے بعد ذکر دونوں باتیں بیان ہوئی ہیں۔ خاص بات تیسری بار «سبحان الملک القدوس» کو لمبا کہنے کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر میں تین سورتوں کی قراءت بیان ہوئی ہے۔
- سلام کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہنا آیا ہے۔
- تیسری بار اسے کھینچ کر کہنے کا ذکر ہے۔
- روایت میں سند کے ایک طریقے کا فرق بھی بتایا گیا ہے۔
