سنن نسائی حدیث ۱۷۴ - آگ سے پکے کھانے پر صحابی کی گواہی
آگ سے پکے کھانے پر وضو کی گواہی
سنن نسائی : ۱۷۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۴
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَلَالًا لِأَنَّ النَّارَ مَسَّتْهُ ، فَجَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَصًى ، فَقَالَ : أَشْهَدُ عَدَدَ هَذَا الْحَصَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
کیا میں اس کھانے سے وضو کروں جسے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں، محض اس لیے کہ وہ آگ سے پکا ہوا ہے؟ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں جمع کیں اور کہا: ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے پکی چیزوں سے وضو کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک علمی گفتگو نقل ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سوال کے انداز میں کہا کہ کیا میں اس کھانے سے وضو کروں جسے میں اللہ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں، صرف اس لیے کہ اسے آگ نے چھوا ہے؟ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں جمع کیں اور کہا کہ ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آگ سے پکی چیزوں سے وضو کرو۔ اس روایت میں ایک طرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سوال ہے، دوسری طرف ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مضبوط گواہی ہے۔ اصل موضوع پکا ہوا کھانا اور وضو ہے، ساتھ ہی حدیث نقل کرنے میں یقین اور اطمینان کا انداز بھی نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسئلے پر سوال اٹھایا۔
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث پر گواہی دی۔
- دینی گفتگو میں دلیل اور روایت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
- حدیث کا متن آگ سے پکی چیز سے وضو کے حکم پر ہے۔
