سنن نسائی حدیث ۱۷۴۱ - وتر کے بعد تین بار ذکر
وتر کے بعد تین بار سبحان الملک القدوس
سنن نسائی : ۱۷۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۴۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَزْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ , قَالَ : " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا " .
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے پھر جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ یہ روایت وتر نماز کے دو اہم حصے بیان کرتی ہے: وتر کے اندر قراءت اور وتر کے بعد ذکر۔ اس میں تیسری بار آواز بلند کرنے کی تفصیل نہیں آئی، صرف تین بار کہنے کا بیان ہے۔ اس لیے اسے وتر کی مسنون سورتیں اور نماز وتر کے بعد «سبحان الملک القدوس» پڑھنے والی حدیث کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر میں تین سورتوں کی قراءت نقل ہوئی ہے۔
- نماز سے فارغ ہونے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہنا آیا ہے۔
- روایت میں وتر کے بعد ذکر کا صاف بیان ہے۔
- اس حدیث میں آواز بلند کرنے کی تفصیل نہیں، صرف تین بار ذکر آیا ہے۔
