سنن نسائی حدیث ۱۷۸۲ - رات کی نماز اور وتر کا نبوی طریقہ
رات کی نماز اور وتر کا نبوی معمول
سنن نسائی : ۱۷۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۸۲
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ , قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
ابوسلمہ روایت:
´ابوسلمہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے، پہلے آٹھ رکعتیں پڑھتے، پھر (ایک رکعت) وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے، اور رکوع کرتے، اور دو رکعتیں صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث رات کی نماز کے بارے میں ایک صاف اور آسان رہنمائی دیتی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر، اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے۔ اس کے بعد صبح کی اذان اور اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ اس روایت کا اصل موضوع رات کی نماز، وتر نماز، قیام اللیل اور فجر کی سنتیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل نماز میں آسانی بھی ہے، ترتیب بھی ہے، اور فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کا خاص اہتمام بھی نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل معمول بیان ہوا ہے۔
- وتر نماز رات کی نماز کے بعد پڑھی جاتی تھی۔
- نفل نماز بیٹھ کر بھی پڑھی جا سکتی ہے، مگر رکوع کے لیے کھڑا ہونا اس روایت میں آیا ہے۔
- فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھی جاتی تھیں۔
