سنن نسائی حدیث ۱۸۲۱ - مصیبت میں موت کی دعا نہ کرو

مصیبت میں موت کی تمنا کے بجائے یہ دعا پڑھیں

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۲۱

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَكِنْ لِيَقُلْ ، اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے، بلکہ یہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ”اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو“۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی دنیا میں آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی: اے اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو مجھے زندہ رکھ، اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے وفات دے۔ یہ دعا بہت خوبصورت ادب سکھاتی ہے۔ انسان اپنی محدود سمجھ سے نہیں جانتا کہ اس کے لیے زندگی بہتر ہے یا موت۔ اس لیے موت مانگنے کے بجائے معاملہ اللہ کے سپرد کیا جائے۔ مصیبت میں صبر، دعا اور اللہ پر بھروسہ یہی اس حدیث کا اصل پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دنیاوی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔
  • مشکل وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی دعا پڑھنی چاہیے۔
  • بندہ اپنے لیے بہتر انجام اللہ کے علم کے سپرد کرے۔
  • مصیبت میں مایوسی کے بجائے دعا اور صبر کا راستہ اختیار کیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں