سنن نسائی حدیث ۱۸۷۰ - صبر پہلے صدمے پر
صبر پہلے صدمے پر ہوتا ہے
سنن نسائی : ۱۸۷۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۷۰
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو صدمہ (غم) پہنچتے ہی ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۷۰ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بہت مضبوط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر وہی ہے جو صدمہ پہنچتے ہی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی غم، تکلیف یا موت کی خبر سامنے آئے تو اسی پہلے لمحے میں انسان کا ردعمل اہم ہوتا ہے۔ بعد میں وقت گزرنے سے دل خود بھی کچھ سنبھل جاتا ہے، لیکن اصل امتحان شروع کے صدمے میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو مصیبت میں صبر کی حدیث کے طور پر بہت زیادہ تلاش کیا جاتا ہے۔ یہاں صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دل کو غم نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ زبان غلط بات نہ کہے، ہاتھ غلط کام نہ کریں، اور انسان اللہ کے فیصلے کے سامنے ادب رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صبر کا اصل وقت مصیبت کے شروع میں ہوتا ہے۔
- پہلے صدمے میں زبان اور عمل کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- غم فطری ہے، مگر بے صبری سے بچنا ضروری ہے۔
- مصیبت آتے ہی اللہ کی طرف رجوع کرنا بہتر ہے۔
