سنن نسائی حدیث ۲۰۵۱ - قبر میں جوتیوں کی آواز

قبر میں جوتیوں کی آواز سننا

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۵۱

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ " .

انس روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۰۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے ایک نہایت سنجیدہ مرحلے کا ذکر فرمایا۔ بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔ روایت میں بس اتنی بات بیان ہوئی ہے، مگر یہ انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ دفن کے بعد لوگ واپس آ جاتے ہیں، مگر میت کے لیے قبر کا معاملہ شروع ہوتا ہے۔ اس حدیث کا مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ بیدار کرنا ہے کہ زندگی کو غفلت میں نہ گزارا جائے۔ قبر کی حقیقت، تنہائی اور آخرت کی تیاری کو یاد رکھنا ہر مسلمان کے لیے فائدہ مند ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دفن کے بعد قبر کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
  • قبر کی تنہائی انسان کو آخرت کی تیاری یاد دلاتی ہے۔
  • زندگی کو غفلت میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
  • قبر کا ذکر دل میں سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں