سنن نسائی حدیث ۲۱۰۳ - رمضان میں جنت کے دروازے
رمضان میں جنت کے دروازے کھلنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۱۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۰۳
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي حَدِيثِهِ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " , رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ اسے ابن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں رمضان کے آتے ہی جنت کے دروازے کھلنے، جہنم کے دروازے بند ہونے اور شیاطین کے جکڑ دیے جانے کا ذکر ہے۔ یہ الفاظ رمضان کی بڑی شان بتاتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے یہ مہینہ غفلت میں گزارنے کا نہیں بلکہ اللہ کی طرف پلٹنے کا وقت ہے۔ جنت کے دروازے کھلنے کا ذکر دل میں امید پیدا کرتا ہے، جبکہ جہنم کے دروازے بند ہونے کا ذکر گناہوں سے رکنے کی یاد دلاتا ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ رمضان میں خیر کا دروازہ کھلا ہے، اس لیے بندہ روزہ، دعا اور نیک عمل کی طرف متوجہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان میں جنت کے دروازے کھلنے کا ذکر امید دلاتا ہے۔
- گناہوں سے بچنا رمضان کی روح کے زیادہ قریب ہے۔
- نیکی کے مواقع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
