سنن نسائی حدیث ۲۱۰۶ - قیام رمضان کی ترغیب

قیام رمضان کی ترغیب اور رمضان کی فضیلت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۰۶

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عَزِيمَةٍ وَقَالَ : " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ ، وَسُلْسِلَتْ فِيهِ الشَّيَاطِينُ " , أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عزیمت و تاکید بغیر واجب کئے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس میں شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابن مبارک نے اسے مرسلاً (منقطعاً) روایت کیا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۱۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے، لیکن اسے واجب قرار نہیں دیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی راتوں میں عبادت کی رغبت دلائی گئی ہے، مگر اس روایت کے الفاظ میں اسے فرض نہیں کہا گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رمضان کے آتے ہی جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ آخر میں یہ بھی آیا ہے کہ ابن مبارک نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، اس لیے سند کے پہلو کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیام رمضان کی ترغیب دی گئی ہے مگر اس متن میں اسے واجب نہیں کہا گیا۔
  • رمضان عبادت کے لیے خاص موقع ہے۔
  • روایت کے آخر میں سند کی نوعیت بھی بیان کی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں