سنن نسائی حدیث ۲۱۴۷ - سحری کی تاکید

سحری کھانے کی ترغیب اور روایت میں احتیاط

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۷

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " تَسَحَّرُوا " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : لَا أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے؟

سنن نسائی حدیث ۲۱۴۷ کا خلاصہ

اس روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سحری کھانے کی بات نقل ہوئی ہے۔ الفاظ مختصر ہیں: سحری کھاؤ۔ پھر عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے۔ اس جملے سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ حدیث بیان کرنے والے راوی الفاظ کے معاملے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔ سحری، روزہ اور رمضان کے متعلق یہ روایت ہمیں سحری کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی سکھاتی ہے کہ دین کی بات نقل کرتے وقت اپنی معلومات سے زیادہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ سادہ الفاظ میں، سحری کھانا روزے کے عمل سے جڑا ہوا ہے، اور روایت کے الفاظ بیان کرنے میں احتیاط بھی دین کا ادب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سحری کھانے کی ترغیب اس روایت میں موجود ہے۔
  • حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
  • راوی نے جہاں الفاظ میں یقین نہ تھا وہاں صاف بتا دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں