سنن نسائی حدیث ۲۱۶۱ - نبوی طریقہ روزہ
روزے میں افطار جلدی اور سحری تاخیر سے
سنن نسائی : ۲۱۶۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۶۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " فِينَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْفِطْرَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ ، قَالَتْ : أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ ، قُلْتُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَتْ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ " .
ابوعطیہ وادعی ہمدانی روایت:
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۶۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوعطیہ وادعی ہمدانی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ دو آدمیوں میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتا ہے، جبکہ دوسرا افطار تاخیر سے اور سحری جلدی کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرنے والے کون ہیں؟ جواب ملا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ اس حدیث میں روزے کے دو اہم اوقات، یعنی افطار اور سحری، کا نبوی عمل بیان ہوا ہے۔ افطار جلدی کرنا اور سحری تاخیر سے کرنا اس روایت کا مرکزی پیغام ہے، بغیر کسی اضافی دعوے کے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- افطار جلدی کرنا اور سحری تاخیر سے کرنا نبوی عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھنے کے لیے اہل علم سے پوچھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- روزے میں وقت کی پابندی اور سنت کے قریب رہنا اہم ہے۔
