سنن نسائی حدیث ۲۲۴۶ - اللہ کی راہ میں روزے کی فضیلت

اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۲۴۶

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۲۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ اس روایت میں “اللہ کی راہ میں روزہ”، “ایک دن کا روزہ” اور “جہنم سے دوری” اصل الفاظ ہیں۔ حدیث میں اجر کی مقدار ستر سال کے فاصلے سے بیان کی گئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہاں روزہ عام عادت نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں رکھا گیا روزہ ہے۔ یہ بندے کو آخرت کی فکر اور اللہ کی رضا کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں رکھا گیا ایک دن کا روزہ بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
  • حدیث میں جہنم سے ستر سال کی دوری کا اجر بیان ہوا ہے۔
  • روزہ بندے کو اللہ کی رضا کے لیے مشقت برداشت کرنا سکھاتا ہے۔
  • نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں