سنن نسائی حدیث ۲۴۴۷ - زکاۃ کا کم از کم نصاب

زکاۃ کا نصاب: غلہ، اونٹ اور چاندی

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۴۷

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى . ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ , وَمَالِكٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۴۷ کا خلاصہ

یہ حدیث زکاۃ کے کم از کم نصاب کو نہایت آسان انداز میں بیان کرتی ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں، پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں۔ اس حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ زکاۃ ہر چھوٹی مقدار پر لازم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک حد مقرر ہے۔ اس سے زکاۃ کا حکم لوگوں کے لیے واضح اور منظم ہو جاتا ہے۔ غلہ، اونٹ اور چاندی کی زکاۃ کے بارے میں یہ روایت نصاب زکاۃ سمجھنے والوں کے لیے بہت اہم ہے۔ حدیث میں صرف یہی مقداریں بیان ہوئی ہیں، اس لیے اسی حد تک بات رکھنا درست ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زکاۃ کے لیے مال کا مقرر نصاب ہونا ضروری ہے۔
  • پانچ اونٹ سے کم پر اس روایت کے مطابق زکاۃ نہیں۔
  • پانچ وسق سے کم غلے پر زکاۃ نہیں۔
  • پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں