سنن نسائی حدیث ۲۶۵ - ایک غسل میں ازواج کے پاس جانا

غسل جنابت اور ایک غسل کا نبوی عمل

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۵

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قال : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی (سبھی) بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے (جماع کرتے) تھے۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۵ کا خلاصہ

اس روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے تھے۔ یہ مضمون پچھلی روایت کے قریب ہے، مگر یہاں الفاظ عادت کے انداز میں آئے ہیں کہ آپ ایسا کرتے تھے۔ حدیث کا مرکز غسل جنابت اور ازدواجی زندگی کا ایک خاص مسئلہ ہے۔ اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ ایک ہی غسل کا ذکر روایت میں موجود ہے، اس لیے ہر مرحلے پر الگ غسل کو اس متن سے لازم نہیں کہا جا سکتا۔ پھر بھی حدیث سے باہر تفصیلی فقہی حکم شامل کیے بغیر صرف یہی کہنا درست ہے کہ روایت نے ایک غسل کا عمل بیان کیا۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے پاکیزہ الفاظ، ادب اور حدیث کے اصل متن کی پابندی بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں ایک ہی غسل کا عمل بیان ہوا ہے۔
  • غسل جنابت کے مسئلے میں حدیث کے الفاظ کو بنیاد بنانا چاہیے۔
  • ازدواجی موضوعات پر بات کرتے ہوئے حیا اور ادب ضروری ہے۔
  • حدیث سے زائد دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں