سنن نسائی حدیث ۳۰۹۱ - جامع کلام اور رعب سے مدد
نبی صلى الله عليه وسلم کو جامع کلمات اور خزانے عطا ہوئے
سنن نسائی : ۳۰۹۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۹۱
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي " , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ۱؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں (اور پیش کرتے ہوئے) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس دنیا سے) چلے گئے اور تم ان (خزانوں) سے فیض اٹھا رہے ہو۔ (انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو
سنن نسائی حدیث ۳۰۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہے، اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ نیند میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کی گئیں اور آپ کے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر تم ان خزانوں سے فائدہ اٹھا رہے ہو۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے مقام کا ذکر ہے، مگر انداز بہت سادہ ہے: اللہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو مختصر مگر معنی بھرے الفاظ، خاص مدد، اور زمین کے خزانوں کی خبر عطا فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ مختصر اور معنی سے بھرپور تھے۔
- اللہ کی طرف سے آپ صلى الله عليه وسلم کی مدد رعب کے ذریعے ہوئی۔
- زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ صلى الله عليه وسلم کو پیش کی گئیں۔
