سنن نسائی حدیث ۳۰۹۴ - زکاۃ مال کا حق ہے
زکاۃ مال کا حق ہے: ابوبکرؓ کا فیصلہ
سنن نسائی : ۳۰۹۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۹۴
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغِيرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وَأَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ .
ابوہریرہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم (مسلمانوں) سے محفوظ کر لیا (اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی (اپنی غلط روی سے) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا (آخری) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں) تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، (یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے (جس طرح نماز بدن کا) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ (عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) قسم اللہ کی، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۹۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلے مضمون ہی کو ایک اور الفاظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے انتقال کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو عربوں میں سے بعض لوگ دین سے پھر گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ لا إله إلا اللہ کہنے والوں سے کیسے جنگ ہو سکتی ہے، جبکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی جان اور مال کی حفاظت کا ذکر فرمایا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اس شخص سے ضرور معاملہ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ اگر وہ بکری کا چھوٹا بچہ بھی روکیں جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیتے تھے تو میں اس روکنے پر بھی اقدام کروں گا۔ اس روایت میں حق، زکاۃ اور دینی ذمہ داری کا پہلو نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ کو مال کا حق سمجھنا چاہیے۔
- نماز اور زکاۃ کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔
- دلیل واضح ہونے پر عمرؓ نے ابوبکرؓ کے موقف کو حق جانا۔
