سنن نسائی حدیث ۳۱۷۰ - مرابط کا جاری اجر
مرابط کا عمل اور رزق جاری رہتا ہے
سنن نسائی : ۳۱۷۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۷۰
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَابَطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً ، كَانَتْ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ ، فَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ " .
سلمان روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا، اور اگر وہ (اس دوران) مر گیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا۔ اور (منکر و نکیر کے) فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا، (یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے) اور اس کے لیے اس کا رزق (جو شہداء کا رزق ہے) جاری کر دیا جائے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والے شخص کے اجر کی تفصیل آئی ہے۔ سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایک دن اور ایک رات اللہ کی راہ میں پہرہ دیا، اس کے لیے ایک ماہ کے روزے اور قیام جیسا اجر ہے۔ اگر وہ اسی دوران مر گیا تو وہ عمل جو وہ کر رہا تھا جاری سمجھا جائے گا۔ اسے فتنوں سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کا رزق جاری کیا جائے گا۔ متن میں منکر و نکیر کے سوالات سے حفاظت کی وضاحت بھی آتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع رباط، جاری عمل، رزق اور اللہ کی راہ میں ثابت قدمی کا اجر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رباط کا اجر بہت بڑا بتایا گیا ہے۔
- مرابط کی موت کے بعد اس کا عمل جاری رہنے کا ذکر ہے۔
- حدیث میں فتنوں سے حفاظت کی بات بیان ہوئی ہے۔
- اللہ کی راہ میں پہرہ دینا صبر اور خدمت کا عمل ہے۔
