سنن نسائی حدیث ۳۲۲ - پانی نہ ملے تو تیمم

پانی نہ ملے تو تیمم کافی ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۲

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، قال : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " .

عمران بن حصین روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) ”مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک آدمی کا واقعہ ہے جو لوگوں سے الگ بیٹھا تھا اور جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی موجود نہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے فرمایا کہ مٹی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پانی نہ ملنے پر تیمم نماز کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان مشکل حالت میں نماز کو بالکل چھوڑ نہ دے، بلکہ شریعت نے جو آسان راستہ بتایا ہے اسے اختیار کرے۔ یہاں تیمم، جنابت، پانی نہ ملنا اور نماز باجماعت جیسے موضوعات ایک ساتھ سمجھ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنابت کی حالت میں پانی نہ ملے تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔
  • نماز کے معاملے میں عذر ہو تو شرعی آسانی معلوم کرنی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال کرنے والے کو سختی نہیں بلکہ آسان حکم بتایا۔
  • پاک مٹی پانی نہ ہونے کی حالت میں طہارت کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں