سنن نسائی حدیث ۳۳۹۷ - عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۳۳۹۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۹۷
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَذَكَرَتْ نَحْوَهُ ، وَقَالَتْ : " أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ، فَاسْتَأْذَنَتْ ، فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ ، فَقَالَتْ : نَحْوَهُ " . خَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ رَوَاهُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ .
عائشہ روایت:
´اس سند سے بھی ہے کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا اور وہ اس میں (صرف اتنا) کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے زینب کو بھیجا تو انہوں نے اجازت طلب کی، آپ نے انہیں اجازت دی، پھر وہ اسی طرح آگے کہتی ہیں، معمر نے اس کے برعکس عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشہ کہہ کر روایت کی ہے۔
