سنن نسائی حدیث ۴۲۰۶ - بیعت کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۴۲۰۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۲۰۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ وَالٍ ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا ، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ ، وَهُوَ مِنَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی حاکم نہیں جس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں، ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ لہٰذا جو اس کے شر سے بچا وہ بچ گیا اور ان دونوں مشیروں میں سے جو اس پر غالب آ جاتا ہے وہ اسی میں سے ہو جاتا ہے“۔
